89

ہاں ہم تعلیم فروش تاجر ہیں۔۔تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ کسی نے کہا کہ پرائیویٹ سکول والے کاروبار ٹھپ ہونے پہ بدتمیزی پہ اتر آئے ہیں۔۔۔۔آپ ان جینوئن مسائل سے واقف نہیں جس تکلیف سے مالکان گزر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے سکول کو اگر کاروبار ہی سمجھ لیا ہے تو پھر تکلیف کس بات کی۔۔ سٹاف اور والدین ہمارے کسٹمر ہیں تو یہ کوئی انوکھی بدمعاشی تو نہیں۔۔ میں کسی کے کاروبار پہ انگلی کیوں اٹھاوں؟؟ والدین کو سروسز کے عوض ہم فیس لیتے ہیں۔۔ رعائت دیتے ہیں۔ادھار کرتے ہیں۔۔ کبھی ایکسٹرا رقم لگا دی ۔۔کتنے گاہک ایسے ہیں جو ہمارا ادھار مار کر اگلی دکان پہ پہنچ جاتے ہیں اور ہم دیگر کاروبار کی طرح نہ تو کسی پہ پرچہ دیتے ہیں نہ تقاضا کرتے ہیں کہ ادھار واپس کریں۔۔ جب کاروبار ہی دمجھ لیا ہے تو زرا بھی نہیں خیال کہ ہم کس قسم کی سروسز دے رہے ہیں عام دکاندار تو وقت کے ساتھ اچانک خریدی گئی چیز کو مہنگی بیچ ڈالتا ہے ۔۔ہم تو فکس پرائس پہ کاروبار کرتے ہیں۔۔ایک ہی دام پہ۔ ہم وہ تاجر ہیں کہ جو درجنوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔۔ اتنے مقدس پیشہ سے جڑے ہیں اور گالیاں کھاتے ہیں۔مافیا بن جاتے ہیں۔۔ لوٹ مار کی باتیں سُنتے ہیں۔۔ایسا تو منشیات بیچنے والوں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا۔۔ آخر ہماری تکلیف سب کو کیوں ہے۔ہم زمہ داری سے کم از کم پانچ قسم کے لازمی ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔۔ تعلیمی دفاتر کو ریونیو دیتے ہیں۔۔ آپ کے بچوں کو چھ گھنٹہ مصروف رکھتے ہیں۔۔وگرنہ وہ ان چھ گھنٹوں میں محلہ کی دکان سے پچاس سے سو روپے کی چیزیں کھا جائیں جو ماہانہ 2 سے تین ہزار بنتا ہے۔۔ یاد رکھیں نوے فی صد سکول ایک ہزار سے کم فیس لیتے ہیں۔۔ تو اس نیت سے خوشدلی سے فیس ادا کیجئے کہ ہم آپ کے بچوں کو چھ گھنٹے ڈسپلن سے باندھ کر رکھتے ہیں جنہوں نے گھر میں اودھم مچا رکھا ہے۔باقی ساری تعلیم چھوڑئیے ایک بچہ ہمارے پاس صرف پانچ سال گزار دے تو وہ کم از کم لکھنا پڑھنا جان لیتا ہے۔۔اگر وہ سکول نہیں آئے گا تو آوارہ ہو جائے گا۔ایسی ہزاروں مثالیں ہمارے ارد گرد ہیں۔۔ہم سے تکلیف کیوں۔۔ہم پہ زبان درازی کیوں؟؟ ہم استاد ہیں۔۔ ہم پہ استادیاں کیوں؟؟ ہاں ہم تعلیم فروش ہیں۔۔ لاو مارکیٹ سے دوسرے تاجروں کی نسبت ہمارا ظرف دیکھئے۔۔ جو کام حکومت کا ہے وہ ہم نبھا رہے ہیں۔ہم سے پندرہ سے بیس لوگ روزگار حاصل کر رہے ہیں۔آپ ہمیں چھ سے آٹھ ہزار کا طعنہ دیتے ہیں۔ یاد رہے اس سکول نے اس تنخواہ کے ساتھ ہوم ٹویشن پہ چھ سے آٹھ ہزار کی اضافی آمدن کا زریعہ بھی نکال رکھا ہے۔۔ایک عام ٹیچر پندرہ سے بیس ہزار ہم تعلیم فروشوں کی وجہ سے لے رہی ہے۔۔ آپ کا کیا کردار ہے۔۔ سوسائٹی میں بتائیے۔۔کہ آپ کی زات کسی کو فائدہ دے ۔۔ ہم دے رہے ہیں اور گالیاں کھا رہے ہیں۔۔ کیونکہ آپ لوگوں نے سکول کو مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔۔ آپ کو جرات کیسی کہ کسی کے کاروبار پہ انگلی اٹھاو۔۔ اس وقت آپ کی والدین سے ہمدردی کدھر گئی جب وہ بازار سے پانچ روپے کا ماسک تیس میں لے رہا تھا۔۔ ہر چیز ڈیڑھ گنا مہنگی خریدی جا رہی تھی۔۔پوری پوری زخیرہ اور منافع خوری کی بدمعاشی آپ کے چاروں طرف مگر 20% کی رعائت سکول والے دیں۔۔ کسی کریانہ میڈیکل سٹور ۔ سبزی والے سے بھی 20 فی صد رعائت مانگی۔۔ اوپر سے ہم جیسوں پہ یہ بدمعاشی کہ جو بات نہیں مانے گا ان نمبرز پہ شکائت کریں۔۔ آپ کو مسلہ کیا ہے۔۔ ہم تا جر سہی ۔آپ ہماری پروڈکٹ نہ خریدیں ہم زبردستی فروخت نہیں کر رہے۔۔کسی سرکاری دکان سے خریدیں جہاں واقعی مفت کا مال بکتا ہے۔۔ہم پہ زبان نہ چلائیں ۔۔ہم آپ کے بچوں کو زبان سے بولنا سکھاتے ہیں۔۔ اور آپ ہم پہ زبان چلاتے ہیں۔۔۔۔نوے فی صد سکول کسمپرسی کے عالم میں ہیں۔ ہمارے معزز سٹاف ممبرز دال دلئے کے لئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اور ہم والدین کی طرف کہ کب وہ فیس جمع کرائیں تاکہ ان کے ٹھنڈے چولہوں میں حدت آئے۔۔اور ایک آپ ہیں کہ نہ جانے کس کی ہمدردی میں ان چولہوں کو ٹھنڈا کرنے کے درپے ہیں۔۔ ہمارے رویے تلخ کیوں نہ ہوں۔۔ کہ آپ ہمارے کاروبار کو نشانہ بنا رہے ہیں۔۔ جس سے صرف ہم ہی نہیں ہم سے وابستہ درجنوں سفید پوش وابستہ ہیں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں