102

*پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں کی حکومت سے درخواست* حکومت سندھ نے تمام تعلیمی ادارے 27 فروری 2020ء سے 31 مئی 2020 تک مسلسل و متواتر بند کروا رکھے ہیں اور یکم جون 2020ء سے پرائیویٹ اسکولز سمیت تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ اب 07 مئی 2020ء کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بدستور 15 جولائی 2020ء تک بدستور بند رکھے جائیں گے۔ اس غیر دانشمندانہ و غیر سنجیدہ اور عاقبت نا اندیشانہ فیصلے کے مضمرات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کرام بے روزگار ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ گورنمنٹ اسکولز کی نسبت کئی گنا زیادہ طلباء و طالبات کو پرائیویٹ اسکولز زیور تعلیم و تربیت سے آراستہ و پیراستہ کر رہے ہیں، ان اسکولز میں اسی نوے فیصد اسکولز ایسے ہیں جو کہ کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں اور ان کی ماہانہ ٹیوشن فیس تین سو روپے ماہانہ سے تین ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے اور اس ماہانہ فیس کی وصولی سے ہی عمارتوں کے کرائے، یوٹیلیٹیز بلز اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تنخواہیں ادا کرتے ہیں اور اکثر مالکان کو بھی اسی میں سے چند ہزار روپے بچتے ہیں جن سے ان کے کا چولہا جلتا ہے، ان اسکولز کی اکثریت مارچ سے مئی تک اپنے تدریسی و غیرتدریسی عملے کو تنخواہیں بھی ادا نہیں کر پائے کیونکہ والدین کی بڑی اکثریت، لوک ڈاؤن کی بدولت ان تین مہینوں کی ماہانہ فیس ادا نہیں کر پائے، لہذا کرائے کی عمارتوں میں قائم اسکولز ان تین مہینوں کا کرایہ بھی بلڈنگز کے مالکان کو ادا کرنے سے قاصر رہے ہیں اور اپنے اسٹاف میمبرز اور اسکول کی عمارتوں کے مالکان کو جون تک انتظار کرنے پر بمشکل رضامند کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہے ہیں تو اب اگر اسکولز 15 جولائی 2020ء تک بند رہتے ہیں تو گویا اسٹاف کو پانچ مہینوں کی تنخواہیں اور پانچ مہینوں کے اسکولز کی عمارتوں کے کرائے مالکان کو اگست 2020ء میں ادا کرنے ہوں گے جو کہ ناممکن نظر آتا ہے، کیونکہ پانچ ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل و متواتر لوک ڈاؤن گزارنے والے والدین کی بڑی اکثریت اگست میں پانچ ماہ کی ماہانہ ٹیوشن فیس یکمشت ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ ان پانچ مہینوں میں بچوں کے تعلیمی نقصانات تو بہرحال ناقابل تلافی ہوں گے۔ لیکن 15 جولائی تک ان اسکولز کو مسلسل و متواتر بند رکھنے کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کیمطابق کم از کم نصف اسکولز تو مکمل طور پر بند ہو جائیں گے جبکہ ان اسکولز سے وابستہ معلمین و معلمات کی اکثریت اپنے اپنے گھروں کی واحد کفیل ہے ان کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں وہ کس طرح کن مشکلات کے ساتھ فاقوں پر مجبور ہو چکے ہیں ان کا کیا ہو گا؟ کیا یہ سوچنا فیصلے کرنے والوں کا کام نہیں ہے؟ وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلی سندھ، وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی وزراء اسد عمر اور وزیر تعلیم سندھ سے میرا یہ معصومانہ و سادہ سا سوال ہے کہ کیا ان اٹل حقائق کے متعلق انہوں کوئی مؤثر، قابل عمل حکمت عملی تیار کی ہے؟ کیا ایسے اسکولز کےلیے کسی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے؟ ان کم و بیش ایک لاکھ تعلیمیافتہ معماران قوم و ملت کو اس سنگین ترین اور مشکل ترین صورتحال میں کس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ آپ چاہتے کیا ہیں؟ کیا ان سفید پوش اور خوددار اساتذہ کو راشن کی طلب میں لائنوں میں لگ پر کھڑا ہونے پر، لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دینا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ان کی عزت نفس و خود داری کو مجروح کر کےانہیں مستحق زکوة بنا دينا چاہتے ہیں؟ یا وہ معلمین و معلمات انڈیا یا اسرایئل کے باشندے ہیں؟ کیا آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان پر من وسلوی اترے گا؟ یا آپ سمجھتے ہیں کہ ان کو فقط پانی پر زندہ رہنا چاہئے؟ کیا آپ ان کو انسان یا محنت کش و مزدور بھی شمار نہیں کرنا چاہتے؟ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو چار چار فیملیز کو سپورٹ کرتے تھے، ایک بندہ چھ سے سات لوگوں کا واحد کفیل تھا۔ میری گورنمنٹ سے اپیل کہ براے مہربانی کوئی حکمت عملی بنائیں یا ان کےلیے کسی امدادی پیکج کا اعلان کریں تاکہ ان کو بھی زندہ رہنے کا حق دیں، اگر دیگر مختلف طبقات کی طرح ان ٹیچرز کےلیے کوئی امدادی پیکیج دے دیں تو بہتر ہے بصورت دیگر ان اسکولز کو بھی پانچ تا پچاس لاکھ روپے کا قرض حسنہ فی الفور دیئے جانے کو یقینی بنائیں جسے ایک تا پانچ سال میں قسطوں میں واپس کیا جا سکے، لله! ان معلمین و معلمات کے حق میں بر وقت کوئی عملی اور واضح اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں